Ink of Ages Fiction Prize
Historical & Mythological Short Fiction
World History Encyclopedia's international historical and mythological short story contest
Historical & Mythological Short Fiction
World History Encyclopedia's international historical and mythological short story contest
پہلا انعام 2026
الیاہ رومر ، اعصابی تنوع کی حامِل ایک غیر روائتی مُصنفہ ہیں جو ریاستہائے متحدہ (امریکہ) میں بحر الکاهل کے شمال مغرب کے عِلاقے میں پورٹ لینڈ، اوریگون کے قریب رہتی ہیں اور کام کرتی ہیں۔ اِنہوں نے پورٹلینڈ اسٹیٹ یونیورسٹی سے تاریخ میں بیچلر اور پسیفیک لو تھرن یونیورسٹی سے رینیر رائٹنگ ورکشاپ سے تخلیقی تحریر میں ایم ایف اے (ماسٹر اِن فائن آرٹس) کی ڈِگری حاصِل کی ہے۔ پیشہ ورانہ یا تحریری کام نہ ہونے کی صُورت میں اِنہیں عجائب گھروں کا دورہ کرنا، PNW (پیسیفِک شمال مغربی) جنگلات کی کھوج لگانا اور بُنائی کرنا پسند ہے (اگر اِن کی بلی اِنہیں ایسا کرنے دے)۔
یونانی جزیره لیمنوس پر، پہلی جنگ عظیم کے دوران، جنگی کتوں اور نرسوں سے متاثر ہوتے ہُوئے، کہانی " ہیروز کی سرزمین میں" لِکھی گئی ہے۔
ہیروز کی سرزمین میں
لیمنوس، نومبر 1915
نینسی نے جیسے ہی چٹانی زمین میں بیلچہ گاڑھا، اُس کے ہاتھوں کی پھٹی ہوئی جِلد جل گئی۔ طویل دن بھر مریضوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے اُس کی کمر پہلے ہی درد کر رہی تھی اور اب اِبتدائی دو اِنچ کی کُھدائی بھی، جو ایک اشارہ تھا، اُس کے درد میں اضافہ کر سکتی تھی.
قبر کے پاس مسی کی لاش پڑی تھی، اور جِس چادر میں اُس کے چتکبرے جسم کو لپیٹا گیا تھا، وہ چاند کی مدھم روشنی کی جھلکیوں میں چمک رہی تھی۔ جیسے بھی وہ لپٹی ہوئی تھی، مسی کا بھاری گول مٹول جسم کسی چھوٹے بچے کی طرح لگ رہا تھا اور ایک خیال نے نینسی کے گلے میں غم کا ڈلا سا جما دیا.
مسی ایک لڑکے کا ایک طرح سے بچہ تھا جو اُسے اندر لے آیا تھا۔ وُہی لڑکا جس نے اسے قسم دی تھی کہ وہ اُسے دوسرے کتوں کے ساتھ گڑھے میں نہیں پھینکے گا۔
لڑکا جس کی زبان اور آدھا جبڑا اُڑ چکا تھا، اُسے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ پیڈ پر لکھنا پڑ گیا تھا تاکہ وہ سمجھ سکے۔
اس نے لکها کہ مسی دوسرے کتوں کو پسند نہیں کرتی، اُسے دُوسرے کُتوں کیساتھ نہ بھیجا جائے۔ یہ اُس نے اُس وقت لِکھا جب ابتدائی طبی امداد دینے والا ڈاکٹر اس کی دیکھ بھال کے انتظامات کر رہا تھا۔
جب تک وہ زندہ رہی، وہ اُسکے تباہ حال چہرے اور اُسکی مخلص آنکھوں کا
عکس اپنے دل میں لیے پھرتی، جو اپنے لیے نہیں بلکہ اس کتے کے لیے التجا کر رہی تھیں جو اس کے جِسم کے نِچلے حِصے پر بے جان پڑا تھا۔ مسی کی حالت کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اُسے شاید وہ چوٹیں سہنی پڑی ہوں گی جو اُس لڑکے کی جان لے لیتیں، حالانکہ لڑکے کو پہنچنے والی چہرے کی چوٹیں بھی اس کا شکار نہیں کر سکی تھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ لڑکا بھی یہ بات جانتا تھا، جیسے ہی اس نے اپنا نوٹ پیڈ چھوڑا، مسی کا ہاتھ جلدی سے تھام لیا۔
نینسی کراہیت اور خوف کے سبب اُس ندامت کا بوجھ اٹھائے رکھے گی جس نے اس کے سینے کو جکڑ لیا تھا، ایسے جیسے کہ اس کے گلے میں کٹی پھٹی سی گڑگڑاہٹ اُبھر گئی ہو، جب اُس نے سوچا کہ شاید وہ انکار کر دے گی۔ وہ پیچھے ہٹی اور اپنے آپ سے کہا کہ یہ اس کے انفیکشن کے امکانات کو کم کرنے کے لیے تھا، نہ کہ اس لیے کہ وہ ڈر گئی تھی۔
"ہرگز نہیں”، اس نے کہا، اور بعد میں اسے ہمیشہ حیرت ہوتی تھی کہ کِس طرح وہ تسلی میں رہی۔ (اُس نےاپنے آپ سے کہا) فکر نہ کریں، وہ گڑھے میں نہیں پھینگی جائے گی۔
یقیناً، لڑکے کو اپنے کتے سے الگ ہونا تھا، نینسی نے اپنے اندر موجود خوف پر قابو پانے کیلئے اپنی ہی سرزنش کی اور اپنا ہاتھ اُس لڑکے کے ہاتھ پر رکھا اور اُس نے بھی اُسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اُسے یاد آیا کہ اس کی گرفت کتنی مضبوط تھی۔ یاد دھانی کا یہ چھوٹا سا عمل ایسا تھا جیسے یہ اُس میں جینے کی طاقت دے رہا ہو۔
جبکہ وہ حیرت میں تھی کہ وہ لڑکا کتنا چھوٹا تھا، اُس نے پشیمان ہو کر سرگوشی کرتے ہُوئے کہا “میں وعدہ کرتی ہوں،"، "میں اُس کی مناسب تدفین کروں گی۔"
لڑکے کی گرِفت میں نرمی آئی، اور نینسی تیزی سے مِسی کے بھاری جسم کو اسٹریچر سے اٹھانے کے لیے آگے بڑھی اس سے پہلے کہ کوئی اسے غیر رسمی طور پر گڑھے میں پھینک دے۔
مِسی کا جسم پہلے ہی اکڑ چکا تھا، اور نینسی سوچ رہی تھی کہ اس لڑکے کو اپنے پیارے ساتھی کیساتھ اِس حالت میں کتنا انتظار کرنا پڑا جس کے بخار زدہ جسم نے اُس کو گرم رکھا۔ اس جزیرہ نما سے انخلاء میں کافی وقت لگ سکتا تھا۔
لڑکے کی بھُوری آنکھوں نے اُسے تکنا نہ چھوڑا اُس دوران جب طبی عملے کے ارکان اسے جراحی کے خیمے میں لے کر جا رہے تھے، اور جب وہ خیمے کے کینوس کے راستے سے اوجھل ہو گیا تو نینسی نے سر ہلا کر الوعاع کہا۔ کتے کے بالوں سے بارود اور دھوئیں کی بو آ رہی تھی، اور نینسی نے جلدی سے اس بو کو خود سے مُمکنہ حد تک دور رکھنے کی کوشش کی۔
تدفین فوری طور پر نہیں کی جا سکتی تھی کیونکہ نینسی کو اپنی ڈیوٹی مکمل کرنی تھی۔ کچھ اور فوجی بھی تھے جنہیں ترجیحاؐ پہلے طبی امداد کی ضرورت تھی، اس لیے 'مِسی' کی میت اس خیمے کے پیچھے رکھی رہی جہاں نینسی اپنی ساتھی نرسوں کے ساتھ سویا کرتی تھی، اور ان میں سے کسی نے بھی کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں کیا۔ جنگ عجیب و غریب تقاضے سامنے لائی جِن سے وہ پہلے ہی واقف تھے۔ اب محض نینسی کی باری تھی۔
یہی وجہ تھی کہ نینسی نے خود کو شدید تھکن سے چور برفانی ہوا میں کانپتے ہوئے اپنی پیاری کتیا کو الوداع کہنے کی کوشش کی جِسکی وہ حقدار تھی۔
سانس لیتے ہُوئے نینسی نے سوچا کہ اس کے خیمے کی لڑکیاں اب اپنے شام کے معمولات سے لطف اندوز ہو رہی ہوں گی۔ وہاں چائے چل رہی ہوگی، اور وہ اپنے خطوط پڑھ رہی ہوں گی اور گپ شپ کر رہی ہوں گی۔ کسی کے پاس کوئی رسالہ ہوگا، اور وہ اسے ایک دوسرے کو پکڑاتی ہوئی فیشن اور مصنوعات پر تبادلہ خیال کریں گی جب تک کہ ان کی آنکھیں نیند سے بند ہونے نہ لگیں۔ پھر وہ اپنے بستروں میں دبک جائیں گی، اور اُنکی کوشش ہو گی کہ وہ خواب سے بیدار نہ ہو جائیں۔
وہ آرام اور پرسکون ماحول میں ہوں گی، جبکہ نینسی انتہائی پتلی جیکٹ کے ساتھ تیز ہوا والی پہاڑیوں میں باہر تھی۔ کسی نے اسے بتایا تھا کہ یہ جزیرہ آگ کے قدیم دیوتا، ہیفسٹس سے منسوب تھا، اور وہ ظاہری طور پر یہ سوچتی تھی کہ شاید اس دیوتا نے رہنے کے لیے کوئی زیادہ گرم جگہ منتخب کی ہوگی۔
اس کے نیچے، بندرگاہ کے چاروں طرف بکھرے ہوئے، جزیرے کے باشندوں کے گھر روشنیوں سے جگمگا رہے تھے۔ نینسی کا لیمنی باشندوں (Lemnians) سے بہت کم میل جول رہا، وہ ہسپتال میں اتنی مصروف رہتی تھی کہ جزیرے کی سیر کر سکے، لیکن وہ ہمیشہ ان کی اس دریا دلی پر دنگ رہ جاتی تھی جو وہ اُس وقت دکھاتے جب کوئی اضافی کنستر شراب کا ہوتا، یا مقامی پکوان بانٹنے کے لیے موجود ہوتے۔ جو لوگ ہسپتال میں سب سے زیادہ عرصہ سے موجود تھے، وہ ہسپتال کا مقام جاننے اور ہر چیز کو ترتیب دینے میں مقامی لوگوں کی مدد کا بہت محبت سے ذکر کرتے تھے۔
دھچکے کی آواز کے ساتھ، اس نے بیلچہ دوبارہ زمین میں گھونپا اور کوشش کی کہ یہ نہ حِساب لگاتی رہے کہ اس کام میں کتنا وقت لگے گا۔ اسے پہاڑی پر تقریباً ایک گھنٹہ ہو چکا تھا، وہ مسی کے لیے ستاروں تلے دفنانے کی کوئی خوبصورت جگہ تلاش کرنے آئی تھی، لیکن اس ساری محنت کا نتیجہ محض چند انچ گہرا گڑھا ہی تھا۔ وہ کبھی بھی ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھی، لیکن اب یہ خیال اُسکے لئے آزمائش تھا۔ اپنے ہاتھوں کو دھول آلود اور زخمی دیکھ کر اسے اپنا والد یاد آیا، جو اکثر کہا کرتا تھا کہ کھُردرے ہاتھ اچھے اور مکمل کام کی نشانی ہوتے تھے۔ یقیناً، اُسکا کا مقصد زیادہ تر طنز کرنا ہی ہوتا تھا۔ اپنی جوانی میں، وہ اپنی خوبصورتی اور نرم ہاتھوں کے بارے میں بہت زیادہ فکرمند رہتی تھی، اور اپنی جیب خرچ سے وہ ہر لوشن اور مرہم خریدتی تھی جو نرم جِلد کی ضمانت تھی۔ اگر اس کے والد اسے اب دیکھ سکتے، تو شاید انہیں اس کے کردار میں آنے والی اس تبدیلی پر فخر ہوتا۔ دوسری طرف، نینسی کو ایک سال پہلے والی اپنی شخصیت کی کمی شدت سے محسوس ہوتی تھی جب وہ ایک ابھی لڑکی تھی۔
نینسی کے اندر ایک اور جذباتی غبار ابھرا۔ اپنے گھر، کوئنز لینڈ میں، اس کے والد نے اسے وہیں رُکنے کیلئے منت کی تھی۔ "تمہارے پاس دنیا دیکھنے کے لیے بہت وقت ہے، حالات ٹھیک ہونے کا انتظار کرو، اور میں خود تمہیں لے کر جاؤں گا”۔
نینسی کا خیال تھا کہ وہ بہتر سمجھتی تھی۔ اس کے والد ایک دکان دار تھے، جن کی تنخواہ پانچ افراد کے اس خاندان کو کھلانے، پہنانے اور ان کا پیٹ پالنے کے لیے کافی تھی۔ اس کی بہنیں ابھی اسکول میں پڑھ رہی تھیں، اس کی ماں بیماری سے کمزور ہوتی جا رہی تھی، اور اس کو کہیں بھی جانا ناممکن سا لگ رہا تھا۔
چنانچہ اس نے یہ سوچ کررضاکارانہ طور پر قبول کر لیا کہ وہ دنیا دیکھے گی اور ثابت کرے گی کہ اس کی قسمت میں زندگی سے بڑھ کر کچھ اور لکھا ہے، مُقابلے میں جو اس کے خاندان نے اس کے لیے چُنا۔
ایسے ہی حالات میں وہ حیران ہوتی تھی کہ آخر اس نے بات کیوں نہیں مانی۔ وہ ایک ایسی زندگی پر مطمئن کیوں نہیں تھی جس میں شدید زخمی لڑکے اور ان کے مردہ پالتو جانور شامل نہ ہوتے۔ اس نے اپنے آپ کو کیا ثابت کیا تھا؟ صرف یہ کہ دنیا میں اس سے کہیں زیادہ درد اور تکلیف تھی جتنا وہ پہلے کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
اب اس کے خواب لاکھوں لڑکوں اور نوجوانوں کی موت کے تصورات سے بھر گئے تھے۔
بیلچہ ایک چٹان سے ٹکرا گیا، اور اور نینسی کی اُنگلیوں کے جوڑوں کی جِلد پھٹ گئی جِس سے اُس کے ہاتھوں میں جلن محسوس ہُوئی۔غصے میں اپنے آپ پہ لعنت بھیجتے ہوئے، نینسی نے چیخ ماری، اور اپنا بیلچہ زمین میں اور گہرائی میں دھنس دیا تاکہ وہ سیدھا کھڑا ہو جائے، ایسا جیسے کہ وہ اُسکی رُوح کی یادگار ہے۔ اپنے گھٹنے پر ایک ہاتھ رکھتے ہوئے، وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی اور ہاتھ کو آنے والی ضرب کا جائزہ لیا۔ یہ گہرا تونہیں تھا، لیکن ایسا تھا کہ اوپر کی سطح کے سو کٹ ایک گہرے کٹ سے بدتر ہو سکتے تھے۔
نینسی کو اُسکی برداشت سے زیادہ چوٹیں لگ چکی تھیں جِنہوں نے بالآخر اسے نِڈھال کر دیا تھا۔ یہ بہت زیادہ تھا۔ زمین بہت سخت تھی، اور نینسی بہت تھکی ہوئی تھی۔
اُس نے کہا "مجھے افسوس ہے" یہ جانے بغیر کہ کیا وہ لڑکے سے مخاطب تھی، کتے سے، یا خود سے۔ گلے میں خوف یا دکھ کی وجہ سے جیسے کوئی گِرہ بندھ گئی تھی، بڑی مشکل سے تھوک نگلتے ہوئے اُس نے دھیمی آواز میں دوبارہ کہا۔ مجھے معاف کیجیے گا۔ اس کی نظریں اپنے بیلچے پر ٹکی ہوئی تھیں، اور کانوں میں چلتی ہوئی ہوا کی گرج سے اُسے دل کی دھڑکن کی آواز کے سوا اور کُچھ سُنائی نہیں دے رہا تھا۔
وہ اپنے دکھ میں اتنی ڈوبی ہوئی تھی کہ اُس نے اُنہیں قریب آتے ہوئے نہیں دیکھا۔
اُس نے ایک بیلچہ مارا، پھِر دُوسرا اور پھر ایک اور۔ نینسی نے اوپر دیکھا ایسا جیسا کہ اُسکے کندھوں پر ایک اونی شال ڈال دی گئی ہو، جس سے شام کی چائے کی مہک آ رہی تھی جو ان کے راشن کا حصہ تھی۔ اس کی پر سکون شاموں کی خوشبو نینسی کے ناک میں بھر گئی جب اس نے اپنے ساتھ کام کرنے والی نرسوں کے چہروں پر نظر ڈالی۔ وہ نرسیں جو اس کے ساتھ تیمار داری اور شانہ بشانہ جنگ کرتی تھیں۔ وہ جو اس وقت اپنے بستروں پر سکون سے پڑی ہونی چاہیے تھیں۔
ایک نے کہا، 'ہم نے سوچا کہ آپ کو مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔' دوسرے نے مذاق کیا، “چہل قدمی کے لیے یہ ایک اچھی رات ہے”۔
نینسی ابھی تھک کر چُور نہیں ہُوئی تھی کہ اُسے ایک قہقہہ آیا، اور یہ ایسا ہی تھا جیسے کہ کِسی نے اُس کے کندھوں پر ایک گرم چادر اوڑھ دی ہو۔ وہ قبر میں جو ایک گرم جگہ تھی، جُھکی اور دیکھا کہ کیا اُسکے بیلچے کے نیچے قبر دِکھتی ہے۔ اس کے ہاتھوں میں ایک ٹین کا مگ تھما دیا گیا، اور اس نے لالچ سے پیا، گرم چائے کو نگلتے ہی زندگی اس کے اعضاء میں واپس آ گئی تھی۔
تقریب کو اِس طرح شروح کیا گیا، "برسبین خواتین "الوداع“، اور دوسروں نے گیت شروع کیا، گیت کے ساتھ ساتھ ان کے بیلچوں نے قدرتی تال پکڑ لی۔
نینسی کے سینے میں تشکر کی لہر اٹھی، جو کسی بھی چائے سے زیادہ سکون بخش تھی۔ گیت میں جب کورس آیا تو وہ اس میں شامل ہوگئی-
"ہم چیخیں گے اور ہم گرجیں گے، کوئینز لینڈ کے سچے چرواہوں کی طرح"- جوش سے گانے کے بعد اِس نے بیلچہ واپس ہاتھ میں تھام لیا اور اب اُسے ایسا محسوس ہُوا جیسے کہ رُوح اُسکے کندھوں اور کمر کی درد کو کم کر رہی تھی، اور اِس کے ساتھ ہی دُوسرے کھودنے والے بھی اِسکے ساتھ شامِل ہو گئے۔
جب انہوں نے کام مُکمل کیا "برسبین لیڈیز" نے ایک اور گیت شروع کیا، اور پھِر ایک اور گیت اور یہ آوازیں اردگرد کی خلا کو بھر رہی تھیں اِس سے پہلے کہ ہوا انہیں رات کے اندھیرے میں اڑا لے جائے ۔
جب نینسی نے یہ سمجھا کہ قبر کافی گہری ہو گئی ہے، تو وہ سب پیچھے ہٹ گئے، اور بیلچے ایک طرف رکھ دیے گئے۔ خاموشی طاری تھی جب نینسی نے مسی کو اُسکی آرام گاہ میں نیچے اتارا۔
ہمارے لڑکوں کا خیال رکھنے کے لیے شکریہ،" اس نے مسّی کے بالوں پر لڑکے کی گرفت کو یاد کرتے ہوئے کہا۔ "آپ نے اپنا کام بہت اچھے طریقے سے کیا ہے۔”
کسی نے کہا ’’توجہ فرمائیں‘‘، اور چاروں طرف ایک مُتفقہ گُنگناہٹ تھی۔ اُنہوں نے زندگی میں مسی کو نہیں دیکھا تھا، لیکن ان سب نے فوجیوں کے ارد گرد کتوں کو گھومتے ہُوئے ضرور دیکھا تھا۔ وہ روشنی جو یہ کُتے لائے اُس نے ناقابلِ فہم مستقبل میں کبھی نہ تھمنے والے بوجھ کو چیر کر رکھ دیا۔ وہ جانتے تھے کہ ایسی مخلوق ان کے لڑکوں کے لیے کتنی اہم تھی۔
قبر کو مٹی سے ڈھانپنا سُبک رفتاری سے کرنے والا کام تھا، اور نینسی نے اسے اُوپر سے ہموار کر کے درمیان میں ایک بھاری پتھر رکھ دیا، بالکل اُسی طرح جیسے اس کے والد اپنے گھر کے کتوں کے لیے ماضی میں کیا کرتے تھے۔
کام مُکمل ہُوا اور نینسی نے ہاتھ آگے بڑھایا اور بھِر کوئی اُسکی مدد کیلئے پہنچا۔ اِس موقع پر سب قبر کے اِرد گِرد کھڑے تھے۔
پھر کسی نے بسکٹ کے ایک ڈبے کا ذکر کیا جو چائے کے تازہ دم برتن کے ساتھ خوب لطف دے گا۔ اس چھوٹے گروه نے اپنے بیلچے اٹھائے اور اپنے عارضی گھر کی طرف رخ کر لیا۔ دن بھر کے کام کو ختم کرتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال لیے۔
Did you love this story as much as we did? Why not share it with someone else to show your support for the author! We're @WHEncyclopedia on social media using the hashtag #InkOfAges 📜🪶
We're determined not to charge writers entry fees.
Open to entries in English from anywhere in the world.
A dedicated team of WHE staff, submission readers, judges, and translators.
Stay informed about submission deadlines, winners announcements, writing tips, and general feedback from the judges.
My favourite editing tips. Writing and editing advice benefits from two disclaimers, I think: Do whatever you want as long as it works. And choose to ignore advice that doesn't inspire you, Let's go!